نئی دہلی، 10؍مئی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا ) ملک میں گؤ رکشا کے نام پر ہورہے تشدد اور غنڈہ گردیکے حالیہ واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے ملک کی اہم مسلم تنظیم جمعیتہ علماء ہند نے آج حکومت سے مطالبہ کیا کہ حکومت قانون بنا کر گائے کو قومی جانور قرار دے ۔
نئی دہلی میں ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کرتے ہوئے مولانا نے کہا کہ جس طرح مور کو قومی پرندہ قرار دیا گیا ہے، اُسی طرح سرکارقانون بناکر گائے کو قومی جانور بنانے کا اعلان کریں، انہوں نے کہا کہ قومی جانور قرار دینے کے لئے ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ مولانا نے کہا کہ ملک میں گؤ کشی کو وکنے کے بہانے جس طرح اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں پر حملے کئے جارہے ہیں اور گئو رکھشا کے نام پر جس طرح کا تشددبرپا کیا جارہا ہے، اس طرح کی کاروائیوں پر روک لگایا جانا بے حد ضروری ہے تاکہ معاشرے میں بھائی چارہ اور امن برقرار رہے۔
جمعیتہ علماء ہندکے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے کہاکہ جگہ جگہ نام نہاد گؤ رکشک لوگوں پر حملے کر رہے ہیں اور کئی بار تو قتل تک بھی نوبت پہنچ چکی ہے ۔یہ سب گائے کی حفاظت کے نام پر ہو رہا ہے۔مولانا نے کہا کہ ہم ایک مذہب کو ماننے والے لوگ ہیں اور دوسرے مذاہب کا احترام کرتے ہیں اور دوسروں کے جذبات کی قدر کرتے ہیں، ہم جانتے ہیں کہ گائے کو برادران وطن پوجتے ہیں، اس میں ان کی عقیدت ہے، لہٰذا حکومت کوچاہے کہ اس جانور کو نیشنل جانور قرار دے کر ذبیح پر پابندی عائد کرے۔ مولانا نے کہا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ گائے کے نام حملہ کرنے والے لوگوں کو قانون ہاتھ میں لینے کی چھوٹ دی گئی ہے اور کسی بھی ریاست کیحکومتیں ان کے ہاتھ نہیں پکڑ رہی ہے، جس سے ملک کا ماحول خراب ہورہاہے۔گائے کے نام پر ایسا سب کچھ ہورہا ہے تو ہم چاہیں گے کہ گائے کو ہی National Animal قرار دیا جائے۔
خیال رہے کہ آج بھی گائے کا گوشت ایکسپورٹ کرنے میں ہندوستان دنیا بھر میں اول نمبر پر ہے اور گائے کے بیوپاریوں اور گوشت کے بڑے بڑے ایکسپورٹروں میں مسلمان نہیں ہیں ، جبکہ ملک میں مسلمانوں سے بھی زیادہ دوسرے مذاہب کے لوگ گائے کا گوشت نوش فرماتے ہیں۔
تین طلاق کی بحث غیر ضروری:
ملک میں تین طلاق کے مسئلہ پر چل رہی بحث کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے مولانا مدنی نے کہاکہ ایسا نہیں ہے کہ طلاق کا معاملہ اچانک سامنے آگیا ہے، مسلم کمیونٹی تو یہاں صدیوں سے رہتی آ رہی ہے، ہمیں لگتا ہے کہ تین طلاق کی آڑ میں ایک طرح کا پروپیگنڈہ چلایا جا رہا ہے، اگر کچھ باتیں ہیں جن کی اصلاح کی جا سکتی ہیں ،تو وہ مسلم کمیونٹی کے مذہبی طور پر ذمہ دار لوگوں کے ذریعے ہو سکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ سبھی کو یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ سڑکوں کا مسئلہ نہیں ہے،یہ مذہبی معاملہ ہے اور اس میں مذہبی لوگ ہی کوئی پہل کر سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ کل مولانا محمود مدنی کی قیادت میں جمعیتہ علمائے ہند کے ایک گروپ نے وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی تھی ،جس میں مودی نے ان سے کہا تھا کہ وہ تین طلاق کے معاملے پر سیاست نہیں ہونے دیں اور مسلم کمیونٹی کے لوگ اس کو حل کرنے کے لیے خود پہل کریں۔
آسام میں شہریت کے معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے مولانا مدنی نے الزام لگایاکہ ایک طرف حکومت ہند شہریت ایکٹ میں ترمیم کر کے مختلف ممالک سے آنے والے ہندو شہریوں کو خصوصی اختیارات دے رہی ہے اور دوسری طرف غیر ملکی اور بنگلہ دیشی شہری ہونے کے جھوٹے الزامات لگا کر ہندوستانی شہریوں کو جلاوطن کرنے کی کوشش کررہی ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کی طرف سے مذہب اور زبان کے نام پر متعصبانہ رویہ اپنایا جا رہا ہے۔